Ghazi ilm udin shaheed ka iman afroz waqiya

راجپال علم الدین کے خنجر کی زد میں-Rajpal Ilmudin k Khanjar Ki Zad Main

راجپال علم الدین کے خنجر کی زد میں

راجپال کا قاتل میں ہوں اور یقینا میں نے حضور صلى الله عليه وسلم کی محبت کے والہانہ جذبے سے بے اختیار ہو کر اس فعل کا ارتکاب کیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے موت کے ڈر سے عدالت میں ارتکاب فعل سے انکار کیا ہے۔ یہ غلط ہے ہرمسلمان کا عقیدہ ہے کہ حیات دنیامستعار ہے اور ہم سب کو ایک نہ ایک دن اس دار فانی سے گزرنا ہے پھر میں کیونکر موت سے ڈرسکتا تھا۔ عدالت میں میرے جو بیانات ہوئے وہ میں نے اپنے بزرگوں کے کہنے پر بادل نخواستہ دیئے۔ میرے نزدیک عشق رسول صلى الله عليه وسلم میں کٹ مرنا وہ بلندترین مرتبہ ہے۔ جوکسی مسلمان ہی کومل سکتا ہے۔ اس لئے موت پرغمگین ہونا تو درکنار میرے لئے تو یہ خبر که پر یوی کونسل میں میری اپیل نا منظور ہوگئی ہے۔ انتہائی مسرت کا موجب ہے اور میں خوش ہوں کہ مشیت ایزدی نے اس زمانے میں چالیس کروڑ مسلمانوں میں سے مجھے اس سعادت کے لئے منتخب کیا۔

یہ اس عاشق رسول صلى الله عليه وسلم کے الفاظ ہیں جس نے ناموس رسول پر حملہ آور ہونے والے شخص راجپال کو واصل جہنم کر دیا۔ یہ واقعہ 9 اپریل 1929ءکو پیش آیا۔ راجپال ایک کتب فروش تھا جس کی دوکان پر بالعموم آریہ سماج کی مذ ہبی کتابیں فروخت ہوتی تھیں ۔ اس کی دوکان انارکلی بازار کے آخر میں پان گلی کے قریب تھی۔ جہاں بعد میں سٹیشنری کی دوکان بنی۔

1917ء میں شدھی تحریک کے بانی شری سوامی شردھانندا کے دہلی میں قتل ہو جانے کے بعد اس کے ایک چیلے ہندو پروفیسر پنڈت چمپوپتی لال نے پیغمبرﷺ خدا کے خلاف مذکورہ کتاب لکھی۔ اس میں دین اسلام کی حقانیت پر سوقیانہ جملے بھی کئے گئے تھے۔ چونکہ کتاب میں کسی جگہ پر مصنف کا نام درج نہ تھا۔ ناشر نے اس پر صرف اپنا نام دے کر قانون کا تقاضہ پورا کر دیا ۔ اشاعت کے بعد کافی عرصہ تک مسلمان اس کتاب سے بے خبر رہے اور حکومت کی پریس برانچ نے بھی اس کی اشاعت پر کوئی پابندی عائد نہ کی ۔ حالانکہ انجمن تاجران کتب کا حکومت کے ساتھ یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ کوئی پبلشرایسی کتاب شائع نہیں کرے گا۔ جس سے کسی فرقہ یا قوم کی دل آزاری ہوتی ہو۔

آخر ایک وقت ایسا آیا کہ مسلمانان پنجاب کو اس دلآزار کتاب کے بارے میں علم ہو گیا ۔ جس میں سرکار دو عالمﷺ کی ذات اقدس پر رکیک حملے کئے گئے تھے اور مسلمانان پنجاب نے اس ناروا حملے کو برداشت نہ کرتے ہوے پر زور احتجاج کیا۔ نتیجہ کے طور پر راجپال پردفعہ 153 الف کے تحت فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ لاہور کے ایک مجسٹریٹ کی عدالت میں مقدمے کی خاصی طویل سماعت کے بعد راجپال کو چھ ماه قید کی سزا ہوئی ۔ مگر راجپال نے ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرشادی لال کی معرفت انگریز ججوں سے اس سزا کومعاف کرالیا۔ سزا کو معاف کرنے والا جج کنوردلیپ سنگھ میسح تھا۔

اس فیصلے سے تمام مسلمان مشتعل ہو گئے۔ انہوں نے تحریر وتقریر کے ذریعے اس کی سخت مخالفت کی۔ لاہور کے ایک ممتاز وکیل نے فیصلے کے خلاف ایک تنقیدی مضمون لکھا اور بتایا کہ جج کنور دلیپ سنگھ نے قانون کی غلط تشریح کی ہے۔ یہ مضمون لاہور کے روزنامہ مسلم آوٹ لک‘‘ کے ادارئے میں طبع ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسلم آؤٹ لک‘‘ پر توہین عدالت کا مقدمہ دائر ہوا اور اخبار کے مالک جناب نورالحق اور چیف ایڈ یٹر سید دلاور شاہ کو دو دو ماہ قید اور ایک ایک ہزار روپے کے جرمانے کی سزا ہوئی ۔ اس سے پہلے رساله ورتمان کے خلاف بھی اس قسم کے الزامات کی بناپر اس کے ایڈیٹر کو قید کی سزا ہو چکی تھی ۔ ان سزاؤں نے مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکا۔ یہ خبر پنجاب کے گوشے گوشے میں وحشت ناک آگ کی طرح پھیل گئی۔ مختلف مقامات پر متعدد جلسے ہوئے۔ بیسیوں جلوس نکلے۔ اسی سلسلے میں ایک بہت بڑا جلسہ 6 اپریل 1929ء کو باغ بیرون دہلی دروازہ لاہور میں مزار حضرت شاه غوثؒ کے قریب ہوا۔ جس میں مفتی کفایت الله مولانا سعید دہلوی غازی عبد الرحمن سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور سر عبد القادر مرحوم کے علاوہ متعدد زعمائے کرام نے شرکت کی ۔ اس جلسے کے ایک عینی شاہد کا بیان ہے کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے مفتی کفایت اللہ سے کعبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ مفتی صاحبہ دیکھئے تمام حاضرین وسامعین کی نگاہیں شاهجی کے اشارے کی سمت اٹھ گئیں اور پھر شاه جی اند و بین ہو کر فرمانے لگے ۔ ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریؓ آپ سے پوچھ رہی ہیں ۔ ناموس رسولﷺ کی حفاظت کون کرے گا؟ اس جملے نے سامعین کے لئے جلتی پر تیل کا کام کیا اور تمام حاضرین جو جلسے میں شریک تھے جلوس کی شکل اختیار کر گئے ۔ دفعہ 144ء پہلے ہی سے نافذ تھی سینکڑوں افراد گرفتار ہوئے ۔ اسیر ہونے والوں میں سید عطاء الله شاه بخاریؒ سرفہرست تھے۔

پنجاب کے گلی کوچوں میں شاتم رسول راجپال پرلعن طعن ہوئی ۔ چاروں طرف غم و غصے کی لہر دوڑ چکی تھی۔ باحمیت مسلمانوں کے قلوب جوش ایمان سے گرم تھے اور اس کا اظہار دوحملوں کی صورت میں ہوا۔ ایک طرف کوہاٹ

سے خان عبدالعزیز خان غزنوی راجپال کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لئے آیا ۔ اس وقت بد ستی سے راجپال خود دکان پرموجود نہ تھا اور اس کی جگہ کوئی اور دھوتی پوش مہا شہ منشی دکان کا کاروبار چلا رہا تھا۔ خان عبدالعزیز خان نے اس حملہ کیا اور اس قتل کے الزام میں چودہ سال قید کی سزا ہوئی۔ اسی قسم کی ایک اور واردات ہوئی ۔ راجپال پر دوسرا حملہ یکی گیٹ لاہور کے شیر فروش اکوجہیا نے

کیا۔ اس کا وار اوچھا پڑا۔ ڈپٹی کمشنر لاہور نے خدا بخش کو بھی سات سال قید با مشقت کی سزادی ۔ جب یہ دونوں نوجوان اپنی امیدوں کے چراغ بجھا کر جیل میں پہنچ گئے تو غازی علم الدینؒ راجپال کی ناپاک زندگی کو ٹھکانے لگانے کے عزم سے قسمت آزمائی کرنے نکلے۔

6 اپریل 1919 کو ہفتہ کا دن تھا۔ غازی علم الدین اپنے احباب کے ہمراہ بیٹھے تھے کہ ان کے کانوں میں صدا گونجی ام المومنین خدیجہ الکبریؓ آپ سے پوچھ رہی ہیں کہ ناموس رسولﷺ کی حفاظت کون کرے گا؟ اس صدانے غازی کے قلب و روح کوگر مادیا۔ وہ اٹھے اور سیدھے اپنے ایک دوست حاجی صدیق احمد کے پاس پہنچے۔ جو قصاب تھے۔ غازی نے ان سے ایک چھری لی لیکن دوستوں نے یہ چھری چھین کر غائب کر دی ۔ غازی گھر واپس آئے کچھ پیسے لے کر بازار سے ایک خنجر خریدا اور سیدھے راجپال کی دکان کی جانب تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے چل د ئے راجپال دکان پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے دو ملازم بھی پاس بیٹھے تھے مگر ان میں مداخلت کی ہمت نہ ہوئی ۔ غازیؒ بلا روک ٹوک دکان میں داخل ہو گئے اور خنجر راجپال کے سینے میں پیوست کردیا۔

غازی علم الدینؒ کے نکل جانے کے بعد ملازموں کے حواس درست ہوئے تو وہ بھر آئی ہوئی آواز میں چلائے ۔ مہاشہ بھی قتل ہو گئے یہ سن کر غیرمسلموں میں بھگڈر گئی۔ دونوں نوکر ایک مسلمان پکڑ لائے اور اسے خوامخواه قاتل قرار دے دیا ۔ اس وقت غازی علم الدینؒ اتم چند کے ٹال پر کھڑے اپنے ہاتھوں سے راجپال کے ناپاک خون کے چھینٹے دھورہے تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ ایک شخص کو بے قصور گرفتار کیا جا چکا ہے توده خود متحمل مزاجی سے گرفتاری کے لئے پیش ہوگئے۔ اس وقت ان کے لبوں سے یہ الفاظ نکل رہے تھے ۔ خدا کا شکر ہے کہ میری محنت ٹھکانے لگی۔

غازی علم الدین کے اقرار جرم کے بعد مقدمہ لوئیس ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوا۔ جس نے معمولی سی سماعت کے بعد 10 اپریل 1929 ء کو مقدم سیشن سپرد کر دیا۔ استغاثہ کی سماعت کے دوران وکیل صفائی مسٹرسلیم نے واضح اور مدلل انداز میں غازی موصوف کے حق میں دلائل دیئے اور سیشن جج پر 153 الف

کے تحت یہ حقیقت ثابت کرنے کی پوری کوشش کی کہ ملزم بے قصور اور بری الذمہ ہے ۔ مگر سیشن جج نہ مانا اور 22 مئی 1929 ء کو غازی علم الدینؒ کو سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا ۔ اس حکم نے تمام مسلمانوں کے احساسات و جذبات کو مجروح کر کے رکھ دیا۔ کیونکہ یہ مقدمہ ایک فرد واحد سے منسلک نہ تھا۔ بلکہ پوری مسلمان قوم اس جانباز عاشق کی جان بچانے کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہی تھی۔ چنانچہ فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی ۔ مگر سزا بحال رہی۔ مسلمان اور ہندو دونوں چندہ جمع کر کے مقدمہ کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ مقدمہ فریقین کے مذہب کی عظمت و وقار بن رہا تھا۔

فرزندان توحید نے ہائیکورٹ کی اپیل رد ہو جانے کے بعد بھی ہمت نہ ہاری اور پریوی کونسل میں مرافعه کیا۔ قائد اعظم محمدعلی جناح کی وکالت اور دیگر زعمائے کرام کی مسلسل تین ماہ کی تگ و دو کے بعد پھر مایوسی کا سامنا کرتا پڑا اور سزا میں کوئی تخفیف نہ ہوئی۔ غازی علم الدینؒ کے مقدر میں شہید ہونا لکھا جا چکا تھا۔

15 اکتوبر 1929 کو پر یوی کونسل میں مسلمانوں کی روکی ہوئی اپیل سے ساری مسلمان قوم مشتعل ہو چکی تھی جس کے باعث حکومت کو یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ اگر غازیؒ کو لاہور میں جام شہادت نوش کرایا گیا تو فساد ہو جانے کی قوی امید تھی۔ چنانچہ میانوالی جیل منتقل کر دیا گیا۔ غازیؒ کا سارا خاندان بھی میانوالی آچکا تھا ۔ غازی کو شہادت کی نوید مل چکی تھی ۔ انہیں سرکار دو عالمﷺ کا قرب روحانی حاصل ہو چکا تھا۔ انہیں اس عالم تا پائیدار کو الوداع کہنے کا کوئی ری نہ تھا۔ 

شهادت سے دو دن قبل غازی علم الدین شہید نے اپنے ایک دوست کو جوان سے شرف ملات کے لئے میانوالی جیل میں آیا تھا۔ اپنایہ آخری بیان قلمبند کروایا۔ اس بیان کے شروع میں غازی مرحوم نے فرمایا۔ ا۔ میرےدوست اس وقت میں جو کچھ بیان کروں گا اسے اہل عالم کے گوش گزار کر دینا۔ اس کے بعد آپ نے وہ الفاظ کہے جنہیں مضمون کے آغاز میں درج کیا جا چکا ہے۔

21اکتوبر 1929ء کو جمعرات کا دن تھا۔ غازی علم الدینؒ حسب معمول نماز تہجد پڑھنے کے بعد قبلہ رو ہو کر درود وظائف میں مصروف تھے کہ مجسٹریٹ اور داروغه جیل نے آ کر یہ خوشخبری سنائی کہ اے غازی ! جس خوش قسمت گھڑی کا آپ کو انتظار ہے و ساعت آن بچی ہے۔ کوئی آرزو یا وصیت ہوتو فرمادے

غازیؒ موصوف مسکرائے اور فرمانے لگے ۔ مجھے صرف دو رکعت نماز شکرانہ ادا کرنی ہے۔ دو رکعت نماز شکرانہ پڑھنے کے بعد کلمہ شہادت اشهد الااله الاالله و اشهد ان محمد عبده و رسوله پڑھا اور پنے تلے قدم اٹھاتے تختہ دار پرآ پہنچے ۔ غازیؒ کی خواہش تھی کہ وہ خود پھانسی کا پھندا اپنے گلے میں ڈالیں مگر جب ان سے کہا گیا کہ یہ خودکشی کے مترادف ہوگا ۔ تو انہوں نے رسہ چھوڑ دیا اور سن دار کو بوسہ دیا ۔ کیونکہ وہ ہر اس شے کو متبرک و مقدس سمجھ کر اس کی عزت و تعظیم کرتے تھے ۔ جوان کو بارگاہ رب العزت میں پہنچانے کا زریعہ ہو ۔ آخر کار انہوں نے جام شہادت پیا اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

حکومت کی مصلحت یہی تھی کہ انہیں میانوالی میں ہی دفن کر دیا جائے ۔ مگر فرزندان توحید کا یہ مطالبہ تھا کہ غازیؒ کو ان کی خواہش کے مطابق لاہور میں سپردخاک کیا جائے۔ چناچہ عوام کی مرضی کے خلاف غیرملکی حکمرانوں کے ایماء پر غازیؒ شہید کی میت کو میانوالی جیل کے نزدیک ہی سپردخاک کردیا گیا۔ غازی علم الدینؒ شہید کونماز جنازہ کے بغیر دفنا د ینے کے بعد جب ان کے والد محترم کو یہ تار ملا کہ غازیؒ کو میانوالی جیل کے پاس ہی دفنا دیا گیا ہے ۔ تو انہوں نے اس تار کی اطلاع اپنے ایک رفیق جناب غلام مصطے حیرت کو دی ۔ یہ دیوالی کی رات تھی ۔ لاہور کے محلہ تیزابیاں کشمیری بازار کے میاں تاج الدین کے ذریعے سارے شہر میں یہ منادی کرا دی گئی کہ انگریزوں نے عاشق رسولﷺ کو جبرامیانوالی جیل میں سپردخاک کردیا ہے،، پنجاب کے شہروں میں حکومت کے اس رویے کے خلاف زبردست ایجیٹشن شروع ہو گئے ۔ مسلمانوں نے شہید کی یاد میں ہڑتال کی ۔ روزے رکھے، جگہ جگہ مسلمانوں نے ننگے سر جلوس نکالے۔ ایک بہت بڑا جلوس بھاٹی دروازہ سے نکل کر بلدیہ کے باغات میں سے ہوتا ہوا موچی دروازہ پہنچا۔ اس وسیع باغ میں لاکھوں مسلمانان پنجاب کا اجتماع ہوا۔ جس کی صدارت کے فرائض جناب غلام مصطفے حیرت نے انجام دیئے جلسہ میں حکومت کے خلاف زبردست تقریریں کی گئیں اور تمام مسلمانان پنجاب نے آپس میں چندہ جمع کر کے وائسرائے ہند سیکرٹری آفسٹیٹ اور دیگر اعلی حکام کو تار بھیجے۔ دوسرے دن مسلمانان لاہور نے غم عشق رسولﷺ میں عام ہڑتال کی اور روزہ رکھا ۔ علاوہ ازیں نعش کے مطالبے کے لئے مختلف تحریکیں شروع ہوئی اور کمیٹیاں بھی تشکیل کی گئیں ۔ مولانا ظفر علی خان‘ میاں فیروز الدین احمد‘ میاں بشیر احمد رفیق وغیرہ کی قیادت میں نعش حاصل کرنے کی ایک اعلی تحر یک شروع ہوئی ۔ کمیٹی کے تمام ارکان نے کندھوں پر بوریا بستر لاد کر میانوالی کا رخت سفر باندھا اور میانوالی جیل کے باہر کئی دنوں تک سول حکام کے خلاف مظاہرے کرتے رہے۔ اور حکومت سے اپنے اس حق کا پرزور مطالبہ کرتے رہے کو شہید کا لاشہ جلد از جلد صندوق میں بند کر کے لاہوربھیج دیا جائے ورنہ ایجی ٹیشن جاری رہے گا۔

گورنر جیفری مونٹ مورنسی نے جب حالات مخدوش پائے تو بغیر کسی کام کے لاہور کے باہر کسی نامعلوم جگہ پر تشریف لے گئے ۔ کئی اکابر ین ملت انہیں ڈھونڈنے کے لئے نکلے مگر گورنر کا کوئی سراغ نہ ملا ۔ اسی اثناء میں غلام مصطفے حیرت نے جو رساله فردوس کے مدیر تھے غازی علم الدین شہید کے نام پر ایک علم الدین کمیٹی بنائی ۔ جس میں میوزک ڈائر یکٹر خورشید انور اور رشید عطرے پیش پیش تھے۔ پھر اس جماعت کے ارکان کی عام بھرتی شروع ہوئی۔ کئی دوسرے نوجوان اپنی جان تھیلی پر رکھ کر سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہو گئے ۔ اس کمیٹی کے ارکان میں مولانا ظفر علی خاں، حکیم احمدحسن بشیر احمد رفیقی، سر میاں فضل حسین اور جناب محمد شفیع کے اسمائے گرامی سرفہرست تھے‘ اس کمیٹی نے بار با حکومت سے نعش کا مطالبہ کیا۔ جب حکومت کی جانب سے کوئی تسلی بخش جواب نہ ملاتو مجبور ہوکر میٹی نے پھر جلوس نکالنے شروع کر دیئے اور نعرے لگانے شروع کر دیئے کہ اگرنعش واپس نہ ملی تو پنجاب کا جو حشر ہوگا وہ تاریخ کا انوکھا باب ہو گا ۔ اسی دن غلام مصطفے حیرت‘ ملک لال دین قیصر اور ڈاکٹر محمد دین تاثیرجناب سرمحمد شفیع کی کوٹھی پر گئے اور گزارش کی کہ قوم پر مصائب کا دور دورہ ہے آپ کی مدد ضروری ہے۔ اسی شام کو ایک وفد چنا گیا جس کی قیادت کے لئے سر میاں محمدشفیع منتخب ہوئے اور ارکان وفد میں علامہ اقبالؒ میاں عبدالعزيز خلیفہ شجاع الدین سپیکرپنجاب اسمبلی اور مولانا محمد امیر شامل تھے۔ اس وفد نے آپس میں سر جوڑ کر یہ فیصلہ کیا کہ کل گورنر پنجاب سے ملاقات کی جائے۔ چنانچہ دوسرے دن صبح سویرے یہ وفد گورنر پنجاب سے ملا اور پرزور مطالبہ کیا کہ شہید کی نعش واپس ملنی چاہیے گورنر نے حکام بالا سے مشورہ کیا اور چند شرائط کے بعد یہ اعلان کروادیا کہ شہید کی نعش کل مل جائے گی۔ اس خبر سے تمام مسلمانوں میں خوشی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔

حکومت خائف تھی کہ اگر مسلمانوں کا جنازے کے موقع پرکوئی بڑا اجتماع ہوا تو شہر میں فساد کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ لیکن عوام کا اصرار تھا کہ جنازے کو کندھادینے اور نماز جنازہ میں شرکت کرنے کی عام اجازت پر کوئی پابندی برداشت نہیں کی جائے گی۔

مسلم عوام کا مطالبہ پیش کرنے اور ان کے جذبات کی ترجمانی کرنے کے لئے ایک وقد سرمحمد شفیع کی قیادت میں پھر گورنر سے ملا۔ طویل گفتگو کے بعد آخر سرمحمد شفیع نے کہا میں اس بات کی پوری ذمہ داری لیتا ہوں کہ مسلمان جنازے کی مذہبی رسوم میں شرکت کے بعد پرامن طور پر منتشر ہو جائیں گے اور قبرستان سے شہر کی جانب واپس جاتے ہوئے اپنے آپ کو جلوس کی شکل نہیں دیں گےآپ نے خاصے واضح الفاظ میں یہ بھی کہا کہ اگر آج آپ میری بات نہیں مانتے تو کل میں کسی معاملے میں مسلمانوں کو حکومت کے ساتھ تعاون کے لئے نہ کہہ سکوں گا۔ چنانچہ گورنر مان گیا ۔ لاہور اور بیرون لاہور سے آنے والے مسلمانوں کا جتنا ہجوم شہید علم الدین کے جنازے کو کندھا دینے کے لئے اور نماز میں شرکت کے لئے جمع ہوا۔ اس سے پہلے اس کی مثال نہیں ملتی اور یہ دن امن و امان سے گزر گیا۔

 

 

35+ Hazrat Ali R.A Quotes in Urdu With Images – Islamic Quotes

Ye Hooriyan-E-Farangi, Dil-O-Nazar Ka Hijab – Allama Iqbal Poetry

Ishq Se Paida Nawa’ay Zindagi Mein Zeer-O-Bamm – Allama Iqbal

 

3 thoughts on “راجپال علم الدین کے خنجر کی زد میں-Rajpal Ilmudin k Khanjar Ki Zad Main

  1. Pingback: pork ruffle fat

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *