Malka Victoria Ka Intiqal | ملکہ وکٹوریہ کا انتقال

ملکہ وکٹوریہ کا انتقال

 

جنوری 1901 کو انگلستان پر سب سے طویل عرصہ تک حکمرانی کرنے والی ملکہ وکٹوریه 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں ۔ انہوں  نے تخت برطانیہ اور اس کی نو آبادیوں پر 63 برس حکومت کی۔ ان کے عہد میں سلطنت برطانیہ اس قدر وسیع ہوئی کہ اس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔

ملکہ وکٹوریہ 24 مئی 1819 ء کو پیدا ہوئی تھیں ۔ وہ ڈیوک آف کینٹ کی صاحبزادی تھیں اور 1837ء میں تخت نشین ہوئی تھیں ۔ 1840ء میں ان کی شادی جرمنی کے پرنس البرٹ سے ہوئی تھی ۔ ملکہ وکٹوریہ کے عہد میں برطانیہ میں 10 وزرائے اعظم برسراقتدار آئے ان میں چار مرتبہ منتخب ہونے والی گلیڈ اسٹون سب سے ناپسند یدہ وزیراعظم تھا

ملکہ وکٹوریہ کے عہد کے واقعات میں سے ایک واقعہ 1857 کی ہندوستان کی جنگ آزادی تھا۔ جسے انگریز مورخین بغاوت با غدر کے نام  سے یاد کرتے ہیں ۔ اس جنگ کے بعد ہندوستان باضابطہ طور پر حکومت برطانیہ کے زیرتسلط آگیا

ملکہ وکٹوریہ 1861 ء میں اپنے شوہر کی وفات کے بعد بڑی حد تک گوشہ نشین ہوگئی تھیں بلکہ 1887 ء میں جب ان کی تخت نشینی کی گولڈن جوبلی منائی گئی تو وہ ایک مرتبہ پھر خبروں کا موضوع بن گئیں۔ ملکہ وکٹوریہ کی تخت نشینی کی گولڈن جوبلی تقریبات دنیا بھر میں منائی گئیں اور اس کی متعدد یادگاریں میں بھی تعمیر ہوئیں ۔ کراچی کی ایمپریس مارکیٹ بھی اسی موقع پر تعمیر ہوئی تھی۔

الیگزینڈر ینا وکٹوریا جب پیدا ہوئیں اس وقت جارج سوئم ابھی تخت نشین تھے اور ان کا باپ ڈیوک آف کینٹ محض بادشاہ کا چوتھا بیٹا تھا لیکن حسن اتفاق تھا کہ وکٹوریا کے چچاؤں کے تمام بیٹے فوت ہوئے لہذا جارج چہارم کے فوت ہونے کے بعد ان کے بھائی ڈیوک آف کلیرئنس ولیم چهارم تخت نشین ہوئے اس طرح ان کی وفات کے بعد وکٹوریہ تخت نشین ہوئیں۔

جارج چہارم اوران کے بھائی انگلینڈ میں انتہائی غیر مقبول تھے بد کردار اور بے قوف امرہ سے لے کرچھوٹے طبقه تک سبھی افرد انہی نا پسند کرتے تھےـ

کسان سبھی ان سے نالاں تھے عوام کی بے چینی خونی انقلاب کا پیش خیمہ بن رہی تھی لیکن جب یہ نوجوان اور خوبصورت لڑکی تخت پر بیٹھی لوگ مطمئن تھے کہ اب انگلینڈ میں نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے کیوں کہ وکٹوریہ اس ماں کی بیٹی تھی جوشاہی خاندان کے انداز و اطوار سے شدید نفرت کرتی تھی۔

وہ نہایت متحمل مزاج ملکہ تھی جس کا علمی مظا ہرہ اس نے اس وقت کیا جب رسم تاج پوشی کے دوران باتھ اور ویلز کے بشپ نے غلطی سے دعاؤں کی کتاب کے دو صفحے ایک ساتھ پلٹ دیئے اور دعا بہت جلد ختم ہوگئی ملکہ کو سب ڈی ویسٹ منسٹر نے اس بارے میں اطلاع دی تو اس نے بشپ کو حکم دیا کہ وہاں سے دعا دوبارہ شروع کرائی جائے جہاں سے اس سے غلطی ہوئی ہے۔ تاج پوشی سے پہلے اور بعد میں جشن منایا گیا وہ لندن کی تاریخ کا اعلی ترین جشن تھا۔ ملکہ کی شان وشوکت کو ہزاروں غیر ملکیوں نے بھی دیکھا۔

ملکہ وکٹوریا ایک بھر پورعورت تھی اس کے چند وزیروں کے ساتھ گہرے مراسم تھے ان میں سے ایک شخص لا رڈ ملبورن تھا ملکہ نے اس سے سیای اسرار و رموز کے بارے میں بہت کچھ سیکھا ایک موقع پر اس نے ملبورن سے تعلقات ختم کرنے سے انکار کر دیا ہاؤس آف کامنز میں ٹوریز پارٹی کی تعداد زیاد تھی۔ اور سر رابرٹ پیل وزیراعظم بننے والے تھے اس بڑے سیاسی گروہ کی مخالفت مول لینے پر ملکہ تضحیک کا نشانہ بنا پڑا۔ ایک موقع پراسے مسز ملبورن کہہ کہ اس کا مذاق بھی اڑایا گیا حالانکہ ملبورن کے ساتھ اس کے تعلقات مخلصانہ تھے اور وہ ملکی امور میں محق اس کی مشاورت کرتا تھا البتہ بعض دیگر لوگوں کے ساتھ اس کے رومانوی تعلقات بھی تھے آخر کار وہ ایک عورت تھی۔ 

تخت نشینی کے دو سال بعد ایک جرمن شہزادے البرٹ کے ساتھ اس کی منگنی کا اعلان کر دیا گیا وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو چکی تھی شهراد بھی مسحور کن شخصیت کا مالک تھا۔1857 ء میں اسے پرنس آف کنسورٹ کا خطاب دیا گیا

ملکہ یہ پسند نہیں کرتی تھی کہ کوئی اس پرحکم چلائے لیکن پرنس البرٹ خوش شکل ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ذہین بھی تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بہت حقیقی حکمران بن گیا۔ امور سلطنت کےاکثر فیصلے وہی کرتا تھا ملکہ صرف توثیق کرتی تھی۔

انیسویں صدی کے آخری زمانے میں جب دنیا میں بادشاہت زوال پذیر تھی ملکہ کا اقتدار بہت مضبوط اور مستحکم تھا وہ اپنے دور کی نمائندگی کرتی تھیں یہی وجہ ہے کہ عوام انہیں پسند کرتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *