Ajmi Tabeeb | Sheikh Saadi Ki Hikayat

Ajmi Tabeeb | Sheikh Saadi Ki Hikayat | عجمی طبیب

عجمی طبیب

Ajmi Tabeeb

 

روایت ہے، عجم کے ایک عیسائی بادشاہ نے عقیدت ظاہر کرنے کے خیال سے اپنے ملک کے ایک نامور طبیب کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی خدمت اقدس میں اس خیال سے بھیجا کہ وہ مدینہ شریف میں رہ کر بیمار مسلمانوں کا علاج معالجہ کر سے۔

اس طبیب کو مدینہ شریف میں رہنے کی اجازت مل گئی اور وہ مطب کھول کر وہاں رہنے لگا لیکن کتے نے ہی دن گزر گئے ایک مسلمان بھی علاج کرانے کے خیال سے اس کے مطب میں نہ آیا۔ طبیب نے اپنے طور پر خیال کیا کہ شاید یہ لوگ میرے عیسائی ہونے کی وجہ سے مجھ سے علاج نہیں کراتے۔چنانچہ وہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کی شکایت کی کہ مسلمان مجھ سے نفرت کرتے ہیں اور اس وجہ سے علاج نہیں کراتے۔ حضرت رسول اللہ صلی علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا، ایسی بات ہر گز نہیں بلکہ صحیح صورت یہ ہے کہ لوگ بیماری نہیں ہوتے اور ان کے تندرست رہنے کی خاص وجہ یہ ے کہ جب تک خوب بھک نہ لگے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے اور جب کچھ بھو ک باقی ہوتی ہے تو د ستر خوان سے اٹھ جاتے ہیں۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کہ یہ ارشاد مبارک سن کر طبیب مطمئن ہو گیا۔ اس کی سمجھ میں یہ بات آ گئی کہ مدینہ شریف کے مسلمان علاج کی غرض سے اس کے مطب میں کیوں نہیں آتے۔

 

بولنے میں اور کھانے میں اگر ہو اعتدال
 معتبر بنتا ہے انساں، محترم رہتی ہے جان
خیق میں پھنستے ہیں ہم بے اعتدالی کے سبب
 ہوا گر محتاط تو گھٹتی نہیں انساں کی شان

 

وضاحت

حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں با عزت اور تندرست رہنے کا زریں گر بتا یا ہے۔ دنیا کے تمام دانشمند اس بات پر متفق ہیں کہ کم کھانے کم بولنے اور کم سفر کرنے والے لوگ فائدے میں رہتے ہیں۔یہ سب باتیں یقیناً ضروری ہیں لیکن ان کا اصل فائدہ اس وقت پہنچتا ہے جب اعتدال اور احتیاط کا راستہ اختیار کیا جائے۔

 

 

 

Acha Mashwara | Sheikh Saadi Ki Hikayat | اچھا مشورہ

Aqalmand Siha | Sheikh Saadi Ki Hikayat | عقلمند سیاح

One thought on “Ajmi Tabeeb | Sheikh Saadi Ki Hikayat | عجمی طبیب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *