Shukar Guzar Banda | Sheikh Saadi Ki Hikayat

Shukar Guzar Banda | Sheikh Saadi Ki Hikayat | شکر گزار بندہ

شکر گزار بندہ

Shukar Guzar Banda

 

حضرت سعدیؒ فرماتے ہیں، میں ہمیشہ اللہ کا شکر گزار بندہ بن کر رہا کبھی ایسا نہ ہوا تھا کہ مصیبت کے زمانے میں میری زبان پر حرف شکایت آیا ہو۔ لیکن ایک بار ایسا ہوا کہ میرے قلب کی یہ حالت بدل گئی۔ بات یہ ہوئی کہ میرا جوتا ٹوٹ گیا اور نیا جوتا خریدنے کے لیے میرے پاس دام نہ تھے۔ ننگے پیر ہو جانے کی وجہ سے میں بہت ملول تھا۔

اس حالت میں کوفے کی مسجد میں گیا تو وہاں میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جو دونوں پیروں سے محروم تھا۔ اسے دیکھ کر میری زبان پر بے اختیار کلمات شکر آ گئے کہ میرے پیر تو سلامت ہیں یہ بے چارہ تو پیروں سے ہی محروم ہے

 

شکر کرے ہر حال میں جس کی اچھی ہے تقدیر
 نا شکرا ہے غافل۔ جاہل۔ احمق اور نادان
پیٹ بھر کو مرغ مسلم بھی معمولی چیز
 بھوک میں گولر بھی لگے ہیں انساں کو پکوان

 

وضاحت

اس حکایت میں حضرت سعدیؒ نے اخلاق سنوار نے اور مطمئن زندگی گزارنے کا زریں اصول بتایا ہے اور وہ ہر حال میں شکر گزار بندہ بن کر رہتا ہے۔ کیونکہ انسان کیسی بھی خراب حالت میں ہو، غور کرے گا تو ایسی حالت میں بھی اپنے آپ کو ہزاروں سے بہتر پائے گا۔ ہمارے آقا اور اللہ کے آخری رسول حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے اس سلسلے میں کیسی پیاری بات ارشاد فرمائی ہے

بھلائی کے کاموں میں ان لوگوں کو دیکھا کر جوتم سے کبھی زیادہ اچھے ہیں اور دنیاوی معاملات میں ان لوگوں کی حالت پر غور کر و جو تم سے درجے اور آسائش میں کم ہیں

 

 

 

Shaer Choroo Ki Basti Main | Sheikh Saadi Ki Hikayat | شاعر چوروں کی بستی میں

Khush Bakht Kisaan | Sheikh Saadi Ki Hikayat | خوش بخت کسان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *