Jeenay Ki Hawas | Sheikh Saadi Ki Hikayat

Jeenay Ki Hawas | Sheikh Saadi Ki Hikayat | جینے کی ہوس

جینے کی ہوس

Jeenay Ki Hawas

 

حضرت سعدیؒ بیان کرتے ہیں، دمشق کی جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھا کسی علمی مسئلے پر دوستوں سے گفتگو کر رہا تھا کہ ایک نوجوان آیا اور اس نے پوچھا کہ آپ لوگوں میں سے کوئی شخص فارسی زبان بھی جانتا ہے۔

میں نے سوال کیا، تم یہ بات کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کیا، ایک بوڑھا جس کی عمر ڈیڑھ سوسال ہے۔، جاں بلب ہے اور فارسی زبان میں کچھ کہہ رہا ہے۔ ممکن ہے وصیت کر رہا ہو۔ یہ سن کر میں اس کے ساتھ ہو لیا۔ جا کر دیکھا تو ایک بوڑھا مرض الموت میں بڑبڑا رہا تھا۔

 

تمنا تھی کچھ اور جیتا ابھی
 مگر حیف پہنچا پیام اصل
میں بیٹھا ہی تھا عمر کے خوان پر
 ہوا حکم اٹھ اور یہاں سے نکل

 

میں نے بوڑھے کی باتوں کا مطلب سمجھایا تو جوان بہت حیران ہوا کہ اتنی عمر پاکر بھی اس کے دل میں زندہ رہنے کی ہوس ہے۔

بوڑھا بولا، تم اس شخص کی تکلیف سے آگاہ نہیں ہوسکتے جس کا دانت اکھاڑا جا رہا ہوا اور نہ اس شخص کی تکلیف کا اندازہ کر سکتے ہو جس کی جان نکل رہی ہو میں نے کہا، اسے بزرگ آپ اپنے روبرو اس موت کا احساس طاری نہ ہونے دیں۔ دیکھا گیا ہے کہ موت کے قریب پہنچ جانے والے صحبت یاب ہو جاتے ہیں آپ کی منشا ہو تو کسی طبیب کو بلایا جائے۔

بوڑھا بولا، طبیب بوڑھے مریض کو دیکھ کر علاج سے ہا تھ اٹھا لیتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ مالک مکان کوٹھڑیوں کی آرائش کی فکر میں ہے اور سیلاب پشتوں کو کھو کھلا کر رہا ہے۔ ایک بوڑھا نزع کے عالم میں رو رہا تھا اور اس کی بیوی اس کے صندل لگا رہی تھی۔ جب مزاج کا اعتدال قائم نہیں رہتا تو ہر تدبیر ناکام ہو جاتی ہے۔

وضاحت

حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں انسان کی اس کمزوری یا نادانی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ خواہ کتنی لمبی عمر بھی پائے زندگی سے اس کی طبیعت سیر نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ اپنے خاص رنگ میں انھوں نے یہ حقیقت بھی بیان کی ہے کہ موت امر رہی ہے جسے ٹالا نہیں جاسکتا۔

 

 

 

Jawab e Jahila | Sheikh Saadi Ki Hikayat | جواب جاہلاں

Jaal Main Machli | Sheikh Saadi Ki Hikayat | جال میں مچھلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *