Kaabay Ka Musafir | Sheikh Saadi Ki Hikayat

Kaabay Ka Musafir | Sheikh Saadi Ki Hikayat | کعبے کا مسافر

کعبے کا مسافر

Kaabay Ka Musafir

 

حضرت سعدیؒ بیان فرماتے ہیں کہ ایک بار میں مکہ معظمہ کی طرف سفر کر رہا تھا۔ مسلسل سفر کرتا ہوا۔ جب وادی مکہ میں داخل ہوا تو اس قدر تھک چکا تھا کہ ایک قدم آگے بڑھنا دشوار تھا۔ چنانچہ میں نے شتر بان سے کہا۔ بھائی ! میری حالت تو بہت خراب ہے۔ تو جانتا ہے۔ کہ میں نے اس سفر میں کتنی تکلیف اٹھائی ہے۔ میں تو کچھ دیر آرام کرنا چاہتا ہوں

شتر بان نے جواب دیا کہ مکہ تیرے سامنے ہے اور ڈاکو تیرے پیچھے۔ تو کسی درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں سوگیا تو کہا نہیں جاسکتا تیرا انجام کیا ہو۔ سفر کی تھوڑی سی تکلیف اور اٹھا لے گا تو اپنی منزل پر پہنچ جائے گا۔ ہمت ہار دے گا تو تباہی کا خطرہ ہے۔ تو نے سنا نہیں۔

 

خنک سائے میں پڑوں کے بہت آرام ملتا ہے
مگر پوشیدہ اس آرام میں جاں کا خطرہ بھی ہے

 

وضاحت

حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں جہد مسلسل کی برکتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ انھوں نے نہایت دلنشیں انداز میں یہ بات بتائی ہے کہ منزل مقصود پر پہنچنے سے پہلے آرام و راحت کا خیال انسان کو محرومیوں سے دوچار کر دیتا ہے۔

 

 

 

Jhutho Ka Badshah | Sheikh Saadi Ki Hikayat | جوٹھوں کا بادشاہ

Jannati Badshah | Sheikh Saadi Ki Hikayat | جنتی بادشاہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *